Munafiqat 189

منافقت–Munafiqat

منافقت 

تحریر: مسزعبنرین میغیث سروری قادری  ایم۔اے۔ابلاغیات

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے جس گروہ پر سب سے زیادہ ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے وہ ’’منافقین ‘‘کا گروہ ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیات نمبر8تا16میں اللہ تعالیٰ نے ان کا طرزِ عمل بیان کرتے ہوئے انہیں عذاب الیم کی وعید سنائی ہے۔
ایک عالم کا قول ہے کہ ’’نفاق کے قریب تر وہ ہے جو کہ سمجھتا ہے کہ میں نفاق سے بری ہوں۔‘‘ حضرت حذیفہؓ سے ایک آدمی نے کہا ’’مجھے ڈر ہے کہ میں منافق نہ ہوں۔‘‘ فرمایا ’’اگر تو نفاق سے نہ ڈرتا تو منافق ہوتا۔ منافق آدمی تو نفاق سے بے خوف ہوتا ہے۔‘‘ صحابہ کرامؓ کا نفاق سے خوف کا یہ عالم تھا کہ حضرت عمرؓ اکثر حضرت حذیفہؓ سے پوچھتے کہ آپؓ جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صاحبِ راز ہیں۔ کیا مجھ پر آپ آثارِ نفاق تو نہیں دیکھتے؟‘‘ ابن ملیکہ تابعی کا بیان ہے کہ ’’میں نے ایک سوتین اور ایک روایت کے مطابق ایک سو پچاس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ کرامؓ کو پایا سب کے سب نفاق سے ڈرتے تھے۔ (مکاشفۃ القلوب)
حضرت حسن رضی اللہ عنہٗ سے کہا گیا ’’ایک قوم کا خیال ہے کہ ہمیں نفاق کا کچھ خطرہ نہیں۔‘‘ فرمایا ’’اللہ کی قسم! اگر مجھے اس کا یقین ہو جائے کہ میں نفاق سے پاک ہوں‘ یہ بات مجھے دنیا بھر کا سونا ملنے سے زیادہ پسند ہے۔‘‘ اس قدر بلند شان‘ پاکیزہ اعمال و عقائد کا مالک ہونے کے باوجود وہ پاک ہستیاں نفاق سے اس قدر خوفزدہ تھیں کہ قلب میں خوفِ خدا یا محبتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے ذرا سا دھیان ہٹنے پر خود کو منافق سمجھنے لگتے۔اور ہماری بے خوفی اور منافقت کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنے ہر بُرے سے بُرے عمل‘ جھوٹ‘ ریاکاری‘ حسد ‘ تکبر‘غیبت‘ بہتان کے بارے میں جانتے ہوئے بھی خود کو پکا سچا مسلمان سمجھتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر منافقت اور کیا ہوگی کہ خود بھی ان تمام عیوب کا منبع ہوتے ہوئے اپنے سوا ہر دوسرے کو منافق سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو ہر عیب سے بری اور پاک سمجھ کر دوسروں کی اصلاح کرنے چل پڑتے ہیں۔ خود کو اچھائی کا معیار مان کر ہر دوسرے میں عیب تلاش کرتے اور ان کی تشہیر کرتے ہیں۔ اس کے بعد وضو کر کے نماز قرآن پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم جیسا تو کوئی اچھا مسلمان ہی نہیں۔ کبھی اپنے اندر نہیں جھانکا‘ کبھی اپنا محاسبہ نہیں کیا۔ کبھی دل میں یہ خوف نہیں جاگا کہ کہیں ہم خود منافق تو نہیں؟
جاننا چاہیے کہ منافقت یا نفاق کہتے کسے ہیں۔ نفاق سے مراد ہے اپنی بُرائی کو پوشیدہ رکھنے کے لیے اپنی بھلائی کو بڑھاچڑھا کر ظاہر کرنا۔ امام ابن جریج رحمتہ اللہ علیہ کا فرمانا ہے۔’’ منافق کا قول اس کے فعل کے خلاف‘ اس کا باطن‘ ظاہر کے خلاف اس کا آنا جانے کے خلاف اور اس کی موجودگی عدم موجودگی ہوا کرتی ہے۔‘‘
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں ’’منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان پر کچھ دل میں کچھ ‘عمل کچھ عقیدہ کچھ‘ صبح کچھ‘ شام کچھ ‘ کشتی کی طرح جو ہوا کے جھونکے سے کبھی ادھر ہوجاتی ہے کبھی ادھر۔‘‘
امام ابن جریج رحمتہ اللہ علیہ کا ہی فرمانا ہے کہ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ کا اظہار کرکے وہ اپنی جان اور مال کا بچاؤ کرنا چاہتے ہیں‘ یہ کلمہ ان کے دلوں میں جاگزیں نہیں ہوتا۔‘‘

ایک متقی مومن اور منافق کا پہلا فرق یہ ہے کہ متقی ہمیشہ اپنے ایمان کو کم سمجھ کر اسے اور بڑھانے کی فکر میں رہتا ہے ۔اس کے لیے وسیلے اور ذریعے ڈھونڈتا ہے‘ کامل متقین کی صحبت اختیار کرتا ہے جبکہ منافق یہ سمجھتا اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا ایمان تو پہلے ہی کامل ہے اسے کسی کی ضرورت نہیں جیسا کہ اللہ نے سورۃ بقرہ میں فرمایا کہ ’’جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے دوسرے لوگ (متقین) لائے تو کہتے ہیں کہ ہم تو پہلے ہی ایمان لاچکے۔‘‘ یہ نفاق کی پہلی علامت ہے کہ باطن میں تو ایمان کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہ ہو۔ لیکن زبان سے دعویٰ کیا جائے کہ ہم ایمان والے ہیں۔ باطن کچھ ظاہر کچھ۔
نفاق کی دو قسمیں ہیں۔ عملی نفاق اور اعتقادی نفاق۔ عملی نفاق یہ ہے کہ زبان سے تو دعویٰ کرنا کہ ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے کیا جا رہا ہے لیکن درحقیقت مقصد صرف مخلوق میں عزت و مقام حاصل کرنا ہو۔ زبان سے خود کو عاجز کہنا لیکن ساتھ ہی اپنی عبادات اور اعمال کو بڑھا چڑھا کر لوگوں کے سامنے پیش کرنا۔ اپنے خوف خدا کے اظہار کے لیے ہر وقت تسبیح ہاتھ میں لیے ورد وظائف میں مشغول رہنا۔ جھوٹے موٹے کپڑے پہننا‘ عمل میں کثرت کرنا لیکن باطن میں بے خوفی کا یہ عالم ہونا کہ جن نیتوں پر حقیقتاً اللہ کی نظر ہے ان کی درستی کی بالکل پروا نہ کرنا۔ ایسے منافقوں کا ٹھکانہ جہنم کا سب سے نچلا گڑھا ہے اللہ فرماتا ہے:
َ ترجمہ: کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو یہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔(سورۃ الصف)
منافقت کی دوسری قسم اعتقادی نفاق ہے جو شیطان کا خفیہ ہتھیار ہے۔ قرآن پاک میں عملی منافقت کے بارے میں اللہ کے واضح احکامات کی وجہ سے کچھ مسلمان ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی حد تک کامیاب ہوجانے پر سمجھ لیتے ہیں کہ وہ منافقت سے بچ گئے ہیں‘ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ لوگوں میں اپنی عبادات کا تذکرہ نہیں کرتے اور نہ ہی بلاوجہ عاجزی اور خوف خدا کا زبان سے اظہار کرتے ہیں تو وہ منافق نہیں ہیں۔ یہیں سے اعتقادی نفاق کی ابتدا ہوتی ہے جس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ’’میری امت میں نفاق زمین پر چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ خفی ہے۔ ’’عملی نفاق میں منافق لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے اور اعتقادی نفاق میں اللہ تعالیٰ کو۔ لیکن دونوں میں وہ درحقیقت خود کو ہی دھوکہ دے رہا ہوتا ہے لیکن اسے اس کا پتہ بھی نہیں چلتا جیسا کہ اللہ نے فرمایا: ’’وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر وہ اپنے سوا کسی کو دھوکہ نہیں دے رہے اور اس کا انہیں شعور تک نہیں۔‘‘
اعتقادی نفاق کی علامات یہ ہیں کہ انسان زبان سے تو کچھ نہیں کہتا لیکن باطن میں خود کو ہی سب سے سچا‘ سب سے نیک جانتا ہے۔ تکبر کے مارے دوسروں کو دین میں کمتر اور خود کو برتر سمجھتا ہے۔ عبادات کو لوگوں میں ظاہر تو نہیں کرتا لیکن دل میں ان عبادات پر مغرور ہوتا ہے اور اللہ کے سامنے ان عبادات کی وجہ سے خود کو بڑے اعلیٰ مقامات پر فائز دیکھتا ہے۔ خود کو ہی کامل جان کر کسی کامل ولی سے اپنے باطن کی درستی اور تزکیہ نفس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔ سمجھتا ہے کہ میں خود ہی اتنا نیک ہوں کہ خودبخود اللہ کی رضا حاصل کر لوں گا مجھے کسی وسیلے کی ضرورت نہیں ہے۔ بدترین تکبر اعتقادی نفاق کی بنیادی علامت ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایسا منافق مانتا بھی نہیں کہ وہ اپنی ذات اپنی عبادات پر تکبر کر رہا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’انہیں اس کا شعور بھی نہیں۔‘‘
ایسا منافق خود کو اور اللہ کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہی اللہ کی عبادت کرتا ہے‘ اس کی عبادات خالص اللہ کے لیے ہیں‘ لیکن عبادت مکمل کرتے ہی اپنی دنیاوی اور اخروی خواہشوں اور آرزوؤں کی پٹاری کھول کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کی دعا میں اللہ کی ذات کی‘ اس کے قرب کی طلب کہیں موجود نہیں ہوتی بلکہ صرف اپنی صحت‘ اپنی اولاد‘ اپنے رزق‘ اپنی بخشش‘ کی دعاؤں کی طویل فہرست ہوتی ہے۔ اللہ سے اللہ کے سوا ہر شے مانگتا ہے۔ باربار خود کو یقین دلاتا ہے کہ میں نے تو عبادت صرف اللہ کے لیے کی لیکن تمام عبادات میں اللہ کہیں موجود نہیں ہوتا۔ اللہ سے تعلق کو نام تو محبت کا دیتے ہیں لیکن رشتہ صرف ضرورت کا قائم کرتے ہیں۔ یہ ہی تو منافقت ہے کہ کہنا کچھ اور کرنا کچھ۔ خود کو متوکل کہنا اور برسوں کے لیے مال جمع کر رکھنا‘ خود کو اللہ کی رضا پر راضی کہنا لیکن مشکل حالات میں رو رو کر اللہ سے حالات بدل دینے کی التجائیں کرنا۔کہنا کہ ہم تو اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کر سکتے ہیں لیکن جب نفس کی خواہشات کی قربانی کا وقت آئے تو ا ن کی جان پر بن آئے۔
ایسے منافقین اللہ سے جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اس کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ان کے اسی جھوٹ کی وجہ سے اللہ انہیں عذاب الیم یعنی درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا جیسا کہ اس نے فرمایا : ترجمہ:انہیں درد ناک عذاب ہوگا اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔(البقرہ: 10)
یوں ہی وہ اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ کو دھوکہ دینا ممکن نہیں اللہ فرماتا ہے کہ : ترجمہ: ’’وہ اللہ کو فریب دے رہے تھے اور اللہ ان سے چال چل رہا تھا اور اللہ بہتر چال چلنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الانفال)
اللہ نے ان کے اس فریب کا جواب اس طرح دیا کہ : ترجمہ:ان کے دلوں میں مرض ہے جسے اللہ اور بڑھا دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کے دلوں میں تکبر اور ریاکاری کا جو مرض ہے‘ جس کا وہ کسی مرشد کامل سے علاج بھی نہیں کروانا چاہتے اللہ انہیں اس میں اور مبتلا کر دیتا ہے۔ وہ اپنے غلط گمانوں میں اور ڈوبتے چلے جاتے ہیں اپنے منافقانہ طرز عمل اور روش کو ہی صحیح راستہ جان کر اس پر دور تک چلتے جاتے ہیں جہاں سے واپسی کا بھی کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں