Lazzat-e-Ashnai 177

لذتِ آشنائی–Lazzat-e-Ashnai

لذتِ آشنائی

تحریر: مسزعبنرین میغیث سروری قادری  ایم۔اے۔ابلاغیات

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو             عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

انسان ذاتِ حق کا مظہر ہے۔ حقیقت اس کی ذات میں ہی پوشیدہ ہے‘ لیکن اپنی ظاہری صورت کی طرح اپنی باطنی حقیقت کی پہچان کے لیے بھی اسے آئینے کی ضرورت ہے۔ حدیث قدسی ہے۔ مومن مومن کا آئینہ ہے۔ جب تک یہ آئینہ میسر نہ آئے‘ خود آگاہی‘ خود شناسائی اور لذتِ آشنائی ممکن نہیں۔ ڈھونڈنے پر تو خدا بھی مل جاتا ہے۔ تلاش میں نکلو تو وہ آئینہ (مردِ کامل) بھی میسر آ ہی جاتا ہے جو آپ کو آپ کی حقیقت سے ملا دیتا ہے۔ خود میں اس حسن مطلق کے وجود کا احساس آپ کو اس آئینے کے مشاہدے سے عطا ہوتا ہے۔ میں‘ میں نہیں وہی ہوں‘ جس کا ہوں‘ وہ جدا نہیں‘ کہیں دور نہیں مجھ میں ہی ہے میرا ہی ہے۔ واہ کیسا کمال ہے! سبحان اللہ کیا جمال ہے! کیا میں اس سے شناسا ہوگیا جس کی تلاش میں نکلا تھا؟ کیا اسے پالیا جسے پانے کی خواہش بھی عقل کے لیے محال ہے؟ یہی کچھ پالینے کا احساس‘ کسی کو پالینے کی خوشی دو عالم سے بیگانگی عطا کرتی ہے۔ اب ہنسنا اس کے لیے رونا اس کے لیے‘ جاگنا اس کا سونا اس کا‘ بننا اس کے لیے مٹنا اس کے لیے۔ یہ خود سپردگی کا عالم اور استوارئ تعلق کا سرور۔ کیا کہیے! یہ معرفت ذات کا سکون اور سرشاری کی کیفیت سبحان اللہ! ہر لذت سے بڑھ کر لذتِ آشنائی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس کو اپنے قریب کرنا چاہتا ہوں اسے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت عطا کر دیتا ہوں۔‘‘ وہ جو مقصودِ کائنات ہے جو محبوب کائنات ہے کیا اس کا عشق میری قسمت میں بھی ہے؟ وہ ایک جلوہ جس نے آئینہ بن کر خدا کو بھی لذتِ آشنائی سے ہمکنار کیا‘ جس کی ایک جھلک کے لیے کائنات کے تمام اصول و ضوابط قربان کر دیئے گئے‘ کیا وہ جلوہ میرے نصیب میں بھی لکھا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ کیا میرا اُن پر کوئی حق نہیں؟ اگر ہاں تو کب اور کیسے؟ اللہ تعالیٰ کہتا ہے مجھ سے مانگو میں دوں گا۔ تو کیوں نہ مانگ کر دیکھیں۔ ہم حقیر سہی‘ ناچیز سہی‘ ہیں تو انہی کے۔ کیا پتہ قسمت مہربان ہو جائے‘ پھر وہ جلوہ عطا ہو جو دو عالم سے بیگانگی اور لذتِ آشنائی سے سرشار کر دے۔

غم مصطفیؐ تیرا شکریہ      غم دو جہاں سے چھڑا دیا

اُس کی شان رحیمی اور شان کریمی کی انتہا کو آزما کر تو دیکھنا ہی چاہیے ،وہ عطا کرنے پر آتا ہے تو جھولیاں چھوٹی پڑجاتی ہیں۔ اگر دو عالم سے بیگانگی قسمت میں ہو تو لذتِ آشنائی ضرور عطا ہوتی ہے۔ پھر رزق‘ صحت‘ اولاد‘ اقتدار‘ علم کے تمام جھگڑے تمام ہوتے ہیں اور صرف اس ذاتِ آشنا سے وصال در وصال کی طلب ہر طلب سے بیگانہ کر دیتی ہے۔

تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے

ہر دھن میں ہر ساز میں اس کی آواز‘ ہر چہرے میں ہر نظارے میں اس کا جلوہ۔ دل اس کے ذکر سے معمور ‘ ذہن اس کے خیال میں محصور۔ وہ بس وہی ہر سو‘ چار سو۔ اندر بھی اردگرد بھی۔ لذتِ آشنائی عطا کرتی ہے اس کے ہونے کا احساس‘ احساس اس وجود کا جو موجود بھی ہے‘ حاضر بھی اور ناظر بھی۔ جس بات کو صرف سنا تھا پڑھا تھا‘ اب اس کا ادراک بھی حاصل ہو گیا۔ اس ادراک نے‘ احساس نے یوں اپنے گھیرے میں لے لیا کہ ہر شے ہمارے وجود کے حصار سے باہر نکل گئی۔ ہم سب سے دور ہو کر صرف اس کے قریب ہوگئے جو واقعی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ احادیث و آیات حقیقت کا روپ دھارنے لگیں۔ نشانیاں جن پر غور کرنے کا حکم تھا‘ ظاہر ہونے لگیں۔ شاید معجزہ اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کہ اپنی ذات کا عرفان آپ کو آپ کے خالق کی معرفت عطا کر دے اور آپ دم بخود رہ جائیں۔ یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جائے کہ میں اور وہ دو نہیں تھے‘ دو بنا دئیے گئے تھے۔ جب وہ ہر جگہ موجود ہے تو پھر میں اس سے مبّرا کیسے ہو سکتا ہوں؟ اگر وہ ہر جگہ موجود ہے تو ضرور مجھ میں بھی موجود ہوگا۔ میں اسے خود سے جدا اور دور سمجھتا رہا حالانکہ اس نے کہا بھی ’’میں تمہارے اندر موجود ہوں کیا تم غور نہیں کرتے، مومن کا دل اللہ کا عرش ہے،میں نہ زمین میں سماتا ہوں نہ آسمان میں لیکن بندۂ مومن کے دل میں سما جاتا ہوں۔‘‘ اتنے واضح اشاروں کے باوجود میں نے اسے سات آسمانوں سے پرے کسی نادیدہ عرش پر مقید کر کے خود سے دور کیے رکھا۔ کیا یہ خود سے اور اپنے اندر موجود اس کی حقیقت سے لاتعلقی اور بے وفائی نہیں ہے؟ سلامت رہے وہ آئینہ جس نے میری ذات کی حقیقت مجھ پر منکشف کر کے مجھے لذتِ آشنائی عطا کی۔
لذتِ آشائی کا تقاضا مکمل خود سپردگی۔ جس نے آپ کو وجود بخشا اور تمام کائنات کو تخلیق کر کے آپ کے سپرد کر دیا ۔کیا آپ اپنا آپ اس کے حوالے نہیں کر سکتے جو بالآخر اس کی طرف لوٹ ہی جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ اگر تم میری طرف ایک قدم آؤ گے تو میں تمہاری طرف دس قدم آؤں گا۔ اگر تم میری طرف چل کر آؤ گے تو میں تمہاری طرف دوڑ کر آؤں گا۔‘‘ اگر ہم اس کے بن گئے تو یقیناًوہ ہمارا بن جائے گا۔ وہ جس کی بے نیازی کے چرچے عام ہیں جب کسی کو محبوب اور محرم بناتا ہے تو محبوب کے بغیر کہیں چین نہیں پاتا۔

راز ہستی راز ہے‘ جب تک محرم نہ ہو           مل گیا محرم‘ تو محرم کے سوا کچھ نہیں

لذتِ آشنائی کا اصول غیرتِ الٰہی کی نگہبانی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ اس کے سوا کوئی محبوب بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے سوا دل میں کسی آرزو‘ کسی طلب‘ کسی محبت کی گنجائش نہیں۔ وہ اپنے محب کے ساتھ خلوت کا خواہش مند ہے۔ جو صرف اور صرف اسی کا ہو‘ اسی کے ساتھ ہو اور اسی کاہمنوا ہو۔ اگر وہ عطا کردہ اسرار کی حفاظت کا حکم دے تو انسانیت کی معراج پر پہنچ کر بھی ’’ اَنَا عَبْدُ ہُ‘‘ کی تکرار جاری رہے اور اگر وہ راز کھولنے کا حکم دے تو ’’اَنَا الحَقْ‘‘ کا نعرہ لگا دیا جائے خواہ پھر سولی ہی کیوں نہ چڑھنا پڑے۔

لذتِ آشنائی کا حصول صرف طلب و عشقِ حقیقی کے ذریعے ممکن ہے۔ ذات کے ادراک اور وصال کی شدید طلب ہی آپ کو ذات کا عرفان عطا کر سکتی ہے۔ مراقبے‘ مشاہدے اور الہام تو ذیلی منازل اور خودبخود ہونے والے عمل ہیں۔ وہ مراقبہ حقیقتاً مراقبہ نہیں جس میں انسان کی ذاتی کوشش کا عمل دخل ہو بلکہ مراقبہ و الہام تو صرف عطائے الٰہی ہیں۔ محب وہی کچھ دیکھتا ہے جو محبوب اسے دکھانا چاہتا ہے۔ وہی کچھ کہتا ہے جو اسے بتایا جاتا ہے۔
ہر طلب اور خواہش کو قربان کر کے خلوصِ دل سے اللہ سے صرف اللہ کو مانگیے۔ وہ آپ کو عرفانِ ذات‘ لذتِ آشنائی اور دو عالم سے بیگانگی کی دولت سے مالا مال کر دے گا۔ مانگیے لیکن اپنی استطاعت کے مطابق نہیں بلکہ عطا کرنے والے کے ظرف کے مطابق وہ عطا کرنے پر آئے گا تو آپ کا ظرف اپنی عطا کے مطابق بنا دے گا۔

دست طلب ہوں دست کرم چاہتا ہوں میں                       غم تو بہت ہیں‘ آپؐ کا غم چاہتا ہوں میں

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں