196

برکاتِ ذکرِ الٰہی–Barkat-e-Zikr-e-Elahi

برکاتِ ذکرِ الٰہی

تحریر: مسزعبنرین میغیث سروری قادری  ایم۔اے۔ابلاغیات

پاک و بابرکت ذاتِ الٰہی کے نام میں جو برکت‘ لذت‘ حلاوت‘ سرور‘ طمانیت ہے وہ کسی ایسے شخص سے مخفی نہیں جس نے انتہائی خلوص‘ محبت اور تڑپ کے ساتھ اپنے رب کو پکارا ہو۔ اُسے یاد کر کے اس کی محبت میں چند آنسو بہائے ہوں اور پھر اس کے پیارے نام کے ذکر سے دل کا سکون پایا ہو۔ اس کے نام کے ذکر نے ہی یہ احساس شدت سے دلایا ہو کہ وہ سب سے زیادہ محبت کرنے والی ذات قریب ہی ہے۔ اسی قرب کی طلب میں انسان اس دنیا میں بے چین رہتا ہے۔ اسی قرب کو دوام بخشنے کی خاطر اللہ نے انسان کو دنیا میں بھیجا۔ یہ قرب جوہر دل کے سکون کا باعث اور ہر نفس کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کی وجہ ہے‘ صرف ذکرِ الٰہی کے باعث حاصل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک جو انسان کے نام اللہ کا پیغام ہے‘ میں اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ تلقین اپنے نام کے ذکر کی کی ہے۔ اگرچہ دیگر عبادات و اعمال کا حکم بھی زور دے کرکیا لیکن اپنے ذکر کی تلقین بار بار کثرت سے کرنے کی تاکید کی، اس کے طریقے بھی سمجھائے اور اس سے غفلت پر شدید ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ ذکرِ الٰہی کو فرض عبادات کی فہرست میں شامل تو نہ کیا لیکن آیاتِ قرآنی میں فرائض سے بھی زیادہ اس کی تلقین کی۔یہ ایک طرح سے انسان کی آزما ئش ہی ہے کہ کیا وہ صرف فرض کی گئی عبادات کو اللہ سے محبت کے اظہار کے لیے کافی سمجھتا ہے یا محبت میں کچھ اور آگے بڑھتے ہوئے فرض عبادات کے اوقات کے علاوہ بھی دنیاوی کام دھندوں سے وقت نکال کر اسے یاد کرتا ہے یا نہیں۔ جس ہستی سے محبت ہو انسان اسے ہر دم یاد کرتا ہے خواہ کسی بھی کام میں مصروف ہو۔ یہ یاد ہی ذکر ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ دنیا سے الگ کسی کونے میں بیٹھا جائے یا دنیا کے کاموں کو ترک کر دیا جائے۔ بلکہ جس کو اللہ سے محبت ہو اس کے لیے سب سے آسان اور سکون و خوشی دینے والی عبادت یہی ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اس کا ذکر کرتا رہے خواہ دنیا کے کسی بھی کام میں مشغول ہو۔ بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ ذکرِ الٰہی ہر عبادت سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت کے اظہار اور اس سے تعلق کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے اسے دیگر عبادتوں کی فہرست میں شامل کرنے کی بجائے ایک علیحدہ ہی مقام دیا گیا ہے۔ کثرت سے آیات اور احادیث ذکرِ الٰہی کی فضیلت میں بیان کی گئیں۔ اگر اللہ تعالیٰ شانہٗ کی پاک ذات کے ذکر کے حق میں کوئی آیت اور حدیث نہ بھی وارد ہوتی تب بھی اس منعم حقیقی کا ذکر ایسا ہے کہ بندہ کو کسی آن اس سے غافل نہ ہونا چاہیے کہ اس ذات کے انعام و احسان بندے پر اتنے کثیر ہیں کہ جن کی کوئی انتہا ہے نہ مثال۔ ایسے منعم کا ذکر‘ اس کی یاد‘ اس کا شکر‘ اس کی احسان مندی فطری چیز ہے۔ کائنات کی ہر شے جسے اللہ نے وجود بخشا اس احسان کے شکرانے میں مسلسل ذکر اللہ میں مصروف ہے۔
ترجمہ:ساتوں آسمانوں اور زمین اور وہ سارے موجودات جو ان میں ہیں اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (جملہ کائنات میں) کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔(بنی اسرائیل۔44)
یہ صرف انسان ہی کی غافل ذات ہے جسے اللہ کے احسانات بھول چکے ہیں اور اسی بنا پر وہ اللہ کے ذکر سے بھی غافل ہو چکا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ بذات خود اپنے کلام پاک میں انسان کو اپنے احسان یاد بھی کراتا ہے اور ان کے شکرانے کے طور پر ذکر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن کی بے شمار آیات میں کسی نہ کسی طریقے سے ذکرِ الٰہی کا حکم بھی دیا گیا ہے، اس کی فضیلت سے بھی آگاہ کیا گیا ہے اور اس سے غفلت کے مرتکب ہونے پر سخت سزا کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔
* پس تم میرا ذکر کرو۔ میں تمہارا ذکر کروں گا اور میرا شکر ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو۔ (سورۃ البقرہ آیت152)
* پھر جب تم (حج کے موقع پر) عرفات سے واپس آجاؤ تو مزدلفہ میں (ٹھہر کر) اللہ کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح تم کو بتا رکھا ہے۔ درحقیقت تم اس سے پہلے محض ناواقف تھے۔ (سورۃ البقرہ آیت198)
* پھر جب تم حج کے اعمال پورے کر چکو تواللہ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباء (واجداد) کا ذکر کیا کرتے ہو (یعنی محبت اور فخر سے) بلکہ اللہ کا ذکر اس سے بھی بڑھ کر ہونا چاہیے۔ (سورۃ البقرہ آیت 200)
* پھر جب نماز پوری کر چکو تو زمین پر چلو پھرو اور خدا کی روزی تلاش کرو (لیکن اس دوران بھی) اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو تاکہ تم فلاح کو پہنچو۔ (سورہ جمعہ رکوع 2)
* پھر جب تم نماز پوری کر چکو تو اللہ کے ذکر میں مشغول ہو جاؤ۔ کھڑے بھی بیٹھے بھی اور لیٹے بھی۔ (سورۃ نساء رکوع 21)
ان آیات میں حج اور نماز جیسی اعلیٰ درجہ کی عبادات سے فراغت کے بعد ذکر کی تلقین اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عبادات اختتام پذیر ہونے والی عبادات ہیں جبکہ ذکر دائمی عبادت ہے۔ ان سے فراغت ہے لیکن ذکر سے نہیں۔ بلکہ ان آیات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ان عبادات کی تکمیل ذکرِ الٰہی سے ہے۔ ان سے فراغت حاصل کرنے کے بعد ذکر کا حکم یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر ان کے بعد ذکرِ الٰہی نہ کیا جائے تو یہ عبادات ادھوری ہیں کیونکہ اگر ان عبادات کے بعد ذکرِ الٰہی کی بجائے واپس دنیا کے خیال میں مگن ہو جائیں گے تو ان عبادات کی تاثیر بھی زائل ہو جائے گی۔ اس لیے حکم دیا کہ ظاہری طور پر فرض عبادات سے فارغ ہونے کے بعد ظاہراً تو کام دھندوں میں لگ جاؤ لیکن دل اللہ کی یاد سے غافل نہ ہونے پائے۔ اس لیے فرمایا کہ ’’اس طرح یاد کرو جس طرح تم کو بتلایا ہے۔‘‘ اور بتایا ایسے ہے کہ
* ’’اور اپنے رب کا ذکر کرو اپنی سانسوں کے ساتھ‘ اپنے دل میں خفیہ طریقے سے‘ خوف اور عاجزی کے ساتھ صبح و شام اور غافلین میں سے مت ہونا‘‘
اللہ کا بتایا ہوا یہ طریقہ ایسا کارآمد ہے کہ نہ دنیاوی کاموں میں کوئی رکاوٹ آتی ہے، نہ ہی دل اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے۔ ہاتھ پاؤں تو رزق حلال کمانے، بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال کرنے یا حقوق العباد ادا کرنے میں مصروف ہوتے ہیں اور قلب و سانس اللہ کی یاد میں۔ کامل ایمان اور اللہ سے کامل محبت کرنے والوں کی نشانی ہی اللہ یہ بتاتا ہے کہ دنیا کا کوئی کام انہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کر پاتا۔
* وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کو اللہ کے ذکر سے نہ خرید غفلت میں ڈالتی ہے نہ فروخت۔ (سورہ نور۔ رکوع5)
اللہ کا ذکر‘ اللہ کی یاد ایسی بابرکت ہے کہ اگر قلب اس کے ذکر میں مشغول ہو تو اس دوران ظاہری اعضاء سے کیے گئے تمام کام بھی درست اور بابرکت ہوں گے۔ جیسا کہ اس نے فرمایا کہ ’’مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔‘‘ جب اس کی یاد دل میں رکھ کر ظاہری کام سرانجام دیں گے تو چونکہ اس لمحے وہ بھی ہمیں یاد کر رہا ہوگا بلکہ ہمارے قریب ہی ہوگا۔ تو ہمارے کاموں کو بھی خود سنوار دے گا۔ اس کی یاد کے دوران کمائے ہوئے تھوڑے سے رزق کی برکت‘ اس کی غفلت کے دوران کمائے گئے بہت سے پیسوں سے کئی گنا زیادہ ہوگی بلکہ اس قدر زیادہ ہوگی کہ دونوں جہانوں میں کام آئے گی۔ اس کی یاد میں کھو کر کئے گئے ہر عمل میں اس کی محبت شامل ہوگی اور وہ عمل خودبخود بہترین نتائج دے گا۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اس کی یاد میں کھو کر کوئی کام کریں اور وہ جو بگڑیاں سنوارنے والا ہے اپنے محبت کرنے والے کا کوئی کام بگڑنے دے۔ اس کی یاد کے دوران پکے ہوئے پکوان کی لذت ہی کچھ اور ہوگی، جو کھانا اسے یاد کرتے ہوئے کھایا جائے وہ کیسے تکلیف کا سبب ہو سکتا ہے،اس کے ذکر میں مشغول رہ کر جس اولاد کی تربیت کی جائے وہ کیسے نافرمان ہوسکتی ہے۔ جب ہم اس کی یاد میں لگ جائیں گے تو وہ ہماری یاد میں لگ جائے گا اور ہمارے ہر کام کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔
سانسوں کے ساتھ خفیہ طریقے سے ذکر (پاس انفاس) کی فضیلت اونچی آواز کے ذکر (ذکرِ جہر) سے اس لیے زیادہ ہے کیونکہ ایک تو اس خفیہ ذکر میں ریاکاری کا خدشہ نہیں رہتا، دوسرے یہ کہ صرف یہی ذکر روح کی زندگی کا باعث ہے کیونکہ روح اور سانس کا آپس میں گہرا تعلق ہے جیسے ہی روح جسم میں داخل ہوتی ہے جسم سانس لینا شروع کر دیتا ہے اور جیسے ہی جسم سے نکلتی ہے سانس بند ہو جاتا ہے۔ سانس کے ساتھ ذکرِ اللہ روح کی غذا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

اَلاَ بِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنَ الْقُلُوْب 

ترجمہ: ’’بے شک ذکرِ اللہ میں ہی دِلوں (روح) کا اطمینان ہے‘‘ (الرعد۔28 ) اور حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا

اَلْاَنْفَاسُ مَعْدُوْدَۃٌ وَکُلُّ نَفْسٍ یَخْرُجُ بِغَیْرِذِکْرِاللّٰہِ تَعَالٰی فَھُوَ مَیِّتٌ 

ترجمہ: ’’سانس گنتی کے ہیں اور جو سانس ذکرِ اللہ کے بغیر نکلے وہ مردہ ہے‘‘۔ سانس کے ساتھ یہ ذکر قرب و معرفتِ الٰہی اور روحانی زندگی کے لیے صرف تبھی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے جب اسے کسی کامل روحانی رہنما کی زیر سرپرستی کیا جائے ورنہ بہت سے لوگ بغیر کسی روحانی رہنما کے صبح شام اَللّٰہُ اَللّٰہُ کا ذکر کرتے رہتے ہیں لیکن معرفت و دیدارِ الٰہی کی رمق بھی نہیں پا سکتے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں
؂ جو دم غافل سو دم کافر سانوں مرشد ایہہ پڑھایا ھُو
اور ان کے مشہور بیت
الف اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ھُو
سے بھی یہی مراد ہے کہ میرے دل میں ذکرِ اللہ کو جاری کر دینے والی ذات میرے مرشد کی ہی ہے جس سے مجھے قربِ الٰہی کی مہک حاصل ہوئی۔
ذکرِ اللہ وہ عبادت ہے جو مسلمانوں پر سب سے پہلے فرض ہوئی۔ تمام عبادات ہجرت کے بعد فرض ہوئیں جبکہ ہجرت سے قبل نازل ہونے والی تمام مکی سورتوں میں مسلمانوں کو صرف اور صرف کثرت سے ذکرِ اللہ کا حکم دیا گیا ہے اور پھر عبادات کی فرضیت کی بعد نازل ہونے والی مدنی سورتوں میں بھی دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ ذکر کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ پہلے بھی حوالہ دیا گیا۔
آج ہم نے ذکرِ اللہ کو اپنی عبادات میں سے خارج کر دیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے کسی عبادت سے غفلت پراس قدر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا جس قدر ذکرِ اَللّٰہُ سے غفلت پر کیا ہے، اللہ فرماتا ہے:
ترجمہ:جس شخص نے میرے ذکر سے روگردانی کی پس اس کی روزی (باطنی رزق یعنی روح کی غذا) بند کر دی جاتی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اُٹھائیں گے۔(طٰہٰ۔124 )
ترجمہ: اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو ذکرِ اللہ سے غافل نہ کردیں ،جو لوگ ایسا کریں وہی خسارہ پانے والے ہیں۔ (المنافقون۔9 )
اور حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کو بھی حکم دیا کہ ترجمہ: ’’پس آپؐ اس شخص سے کنارہ کشی اختیار فرما لیں جس نے ہمارے ذکر سے روگردانی کی اس نے محض دنیا کی زندگی کو ہی اپنا مقصود بنا لیا ہے۔‘‘ (النجم۔29 )

اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں